صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2901
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً؟ قَالَ:" الأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الأَمْثَلُ، فَالأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ، ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ" .
مصعب بن سعد اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش کا شکار کون لوگ ہوتے ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء، پھر درجہ بدرجہ (مذہبی لوگ)، آدمی کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، اگر اس کا دین مضبوط ہو تو اس کی آزمائش شدید ہوتی ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے دین کے حساب سے ہی آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، اور آدمی مسلسل آزمائش کا شکار ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ آزمائش انسان کو ایسی حالت میں کر دیتی ہے کہ وہ زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا (یعنی اس کے سب گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 2901]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2900، 2901، 2920، 2921، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 120، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2398، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4023، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6630، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1499» «رقم طبعة با وزير 2890»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (143).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن