🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

105. فصل في تمني الموت - ذكر الزجر عن دعاء المرء بالموت لضر نزل به
موت کی تمنا کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی دعا مانگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2999
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ، وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا، وَقَالَ:" لَوْلا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَنْ مَضَى مِنْ أَصْحَابِهِ، أَنَّهُمْ مَضَوْا لَمْ يَأْكُلُوا مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَإِنَّمَا بَقِينَا بَعْدَهُمْ حَتَّى نِلْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا لا يَدْرِي أَحَدُنَا مَا يَصْنَعُ بِهِ إِلا أَنْ يُنْفِقَهُ فِي التُّرَابِ، وَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلا نَفَقَتَهُ فِي التُّرَابِ".
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع نہ کیا ہوتا کہ ہم موت کی دعا کریں، تو میں اس کے لیے دعا کرتا۔ پھر انہوں نے اپنے (دنیا سے) رخصت ہو جانے والے ساتھیوں کا ذکر کیا کہ یہ حضرات تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنے اجر میں سے (دنیاوی فائدے کے طور پر) کچھ بھی نہیں پایا، اور ان کے بعد ہم باقی رہ گئے اور ہم نے دنیا بھی حاصل کی، ہم میں سے کسی ایک کو یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ کیا کرے؟ سوائے اس کے کہ وہ اس (مال و دولت کو) مٹی میں خرچ کرے (یعنی تعمیرات کرے) اور مسلمان کو اس کی ہر چیز میں اجر دیا جائے گا، سوائے اس چیز کے، جو اس نے مٹی میں خرچ کیا ہو (یعنی تعمیرات پر خرچ کیا ہو)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5672، 6349، 6350، 6430، 6431، 7234، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2681، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2999، 3243، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1822، والترمذي فى (جامعه) برقم: 970، 2483، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4163، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6658، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21439» «رقم طبعة با وزير 2988»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2721): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں