صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
132. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر مغفرة الله جل وعلا ذنوب من شهد له جيرانه بالخير وإن علم الله منه بخلافه
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس کے گناہ معاف کرتا ہے جس کے پڑوسی اس کی خیر کی گواہی دیں، چاہے اللہ کو اس کے برعکس علم ہو
حدیث نمبر: 3026
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَتِهِ الأَدْنَيْنَ، أَنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ إِلا خَيْرًا، إِلا قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ فِيهِ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لا تَعْلَمُونَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھر کے افراد اس کے حق میں یہ گواہی دیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں بھلائی کا علم رکھتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس شخص کے بارے میں، میں نے تم لوگوں کے علم کو قبول کیا اور میں نے اس کی ان چیزوں کی مغفرت کر دی جن سے تم واقف نہیں ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3026]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3026، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1402، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13745، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3481» «رقم طبعة با وزير 3015»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحكام الجنائز». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح بشواهده