🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

181. فصل في الصلاة على الجنازة - ذكر وصف الجبلين اللذين يعطي الله مثلهما من الأجر لمن صلى على جنازة وحضر دفنها
فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ اللہ اس شخص کو دو پہاڑوں کے برابر اجر دیتا ہے جو جنازہ پر نماز پڑھے اور اس کے دفن میں شریک ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3079
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَاطَّلَعَ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَلا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ؟ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً مِنْ بَيْتِهَا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى يَدْفِنَهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ رَجَعَ عَنْهَا بَعْدَمَا يُصَلِّي وَلَمْ يَتْبَعْهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ مِثْلُ أُحُدٍ" فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ، فَسَلْهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي بِمَا قَالَتْ: قَالَ: وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصَاةٍ فَجَعَلَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ حَتَّى رَجَعَ الرَّسُولُ، فَقَالَ: قَالَتْ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَرَمَى ابْنُ عُمَرَ الْحَصَى إِلَى الأَرْضِ مِنْ يَدِهِ، وَقَالَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ.
داود بن عامر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران گھر کا مالک سامنے آیا اور بولا: اے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما! کیا آپ نے سنا نہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا بیان کرتے ہیں؟ وہ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص میت کے گھر سے جنازے کے ساتھ جائے، یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کر لی جائے، پھر وہ اس کے ساتھ رہے، یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا جائے، تو اس شخص کو دو قیراط ثواب ملتا ہے جن میں سے ہر ایک قیراط احد پہاڑ جتنا ہوتا ہے، اور جو شخص نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد واپس آ جائے اور جنازے کے ساتھ نہ رہے، تو اسے ایک قیراط جتنا ثواب ملتا ہے، جو احد پہاڑ جتنا ہوتا ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بارے میں دریافت کرو اور پھر میرے پاس واپس آ کر مجھے بتانا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا جواب دیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مٹھی میں کنکریاں لیں اور انہیں اپنے ہاتھ میں الٹنے پلٹنے لگے، یہاں تک کہ قاصد واپس آیا اور اس نے بتایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ٹھیک کہا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کنکریاں اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف پھینکیں اور بولے: پھر تو ہم نے بہت سے قیراط ضائع کر دیے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3079]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 47، 1323، 1325، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 945، وابن الجارود فى "المنتقى"، 576، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3078، 3079، 3080، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6222، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3168، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1040، 3836، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1539، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6846، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4539» «رقم طبعة با وزير 3068»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں