🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

196. فصل في الصلاة على الجنازة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن المرجوم لزناه لا يجب أن يصلى عليه
فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ زنا کی سزا میں رجم ہونے والے پر نماز پڑھنا واجب نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3094
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِكَ جُنُونٌ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَهَلْ أَحْصَنْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَ فِي الْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ، فَرَّ، فَأُدْرِكَ وَخَرَّ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرًا" وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے زنا کرنے کا اعتراف کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رخ پھیر لیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے بارے میں چار مرتبہ یہ گواہی دی (کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم پاگل ہو؟ اس نے عرض کی: جی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، لیکن اسے پکڑ لیا گیا (اور پتھر مارے گئے)، یہاں تک کہ وہ گر گیا اور اس کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھے کلمات کہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3094]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5270، 5272، 6814، 6820، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1691، وابن الجارود فى "المنتقى"، 877، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3094، 4440، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1955، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4420، 4430، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1429، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3240، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14686» «رقم طبعة با وزير 3083»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (7/ 353): ق إِلاَّ أَنَّ البخاري قال: «وصلى عليه»؛ وهي شاذة.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں