🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

209. فصل في الدفن - ذكر تفصيل لفظ الخبر الذي ذكرناه
تدفین کا بیان - اس خبر کے لفظ کی تفصیل کا ذکر جو ہم نے بیان کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3108
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لابْنِ آدَمَ ثَلاثَةٌ أَخِلاءُ: أَمَّا خَلِيلٌ، فَيَقُولُ: مَا أَنْفَقَتْ فَلَكَ، وَمَا أَمْسَكَتْ فَلَيْسَ لَكَ، فَهَذَا مَالُهُ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ وَرَجَعْتُ، فَذَلِكَ أَهْلُهُ وَحَشَمُهُ، وَأَمَّا خَلِيلٌ، فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ وَحَيْثُ خَرَجْتَ، فَهَذَا عَمَلُهُ، فَيَقُولُ: أَنْ كُنْتَ لأَهْوَنَ الثَّلاثَةِ عَلَيَّ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ابن آدم کے تین دوست ہیں، جہاں تک ایک دوست کا تعلق ہے، تو وہ یہ کہتا ہے: تم جو خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر مل جائے گا اور جو تم خرچ نہیں کرو گے اس کا تمہیں کچھ نہیں ملے گا، یہ اس کا مال ہے۔ ایک دوست یہ کہتا ہے: میں تمہارے ساتھ ہوں، جب تم بادشاہ (یعنی خالق حقیقی) کے دروازے پر آؤ گے (یعنی جب تم مر جاؤ گے)، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور واپس آ جاؤں گا، یہ اس کے اہل خانہ اور جاہ و حشم ہیں۔ اور ایک دوست یہ کہتا ہے: میں تمہارے ساتھ ہوں، تم جہاں بھی داخل ہو گے اور جہاں سے نکلو گے، یہ اس کا عمل ہے۔ تو وہ بندہ یہ کہتا ہے: تم تو میرے نزدیک ان تینوں میں سب سے کم حیثیت کے مالک تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3108]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3108، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 248، 250، 1379، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2125، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3148، وأخرجه البزار فى (مسنده) برقم: 7265، وأخرجه الطبراني فى (الأوسط) برقم: 2518» «رقم طبعة با وزير 3098»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (3299).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں