صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
212. فصل في أحوال الميت في قبره - ذكر الخبر الدال على أن المسلم والكافر يعرفان ما يحل بهما بعد من ثواب أو عقاب قبل أن يدخلا في حفرتهما
قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان اور کافر دونوں کو اپنی قبر میں داخل ہونے سے پہلے ان کے ثواب یا عذاب کا علم ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 3111
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ يَقُولُ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ يَقُولُ: يَا وَيْلَتِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي؟" يُرِيدُ: الْمُسْلِمَ وَالْكَافِرَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهِ عَنْهُ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ، وَمَتْنُ خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ أَتَمُّ مِنْ خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي أَوْلِ هَذَا الْبَابِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب بندے کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے، تو وہ یہ کہتا ہے: مجھے آگے لے جاؤ، مجھے آگے لے جاؤ! اور جب بندے کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے، تو وہ یہ کہتا ہے: ہائے افسوس! تم لوگ مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مسلمان اور کافر (بندہ) تھا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت سعید مقبری نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور عبدالرحمن بن مہران کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کا متن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت سے زیادہ مکمل ہے، اسے ہم اس باب کے آغاز میں ذکر کر چکے ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3111]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 769، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3111، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1907، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2046، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3171، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6752، 6946، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8029» «رقم طبعة با وزير 3101»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (444).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم