🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

218. فصل في أحوال الميت في قبره - ذكر الإخبار عن اسم الملكين اللذين يسألان الناس في قبورهم ثبتنا الله بتفضله لسؤالهما في ذلك الوقت
قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس بات کی اطلاع کہ دو فرشتوں کے نام جو قبروں میں لوگوں سے سوال کرتے ہیں، اللہ ہمیں اپنے فضل سے اس وقت کے سوال کے لیے ثابت قدم رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3117
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قُبِرَ أَحَدُكُمْ أَوِ الإِنْسَانُ، أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، يُقَالُ لأَحَدِهِمَا: الْمُنْكَرُ وَالآخَرُ: النَّكِيرُ، فَيَقُولانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ؟ فَهُوَ قَائِلٌ مَا كَانَ يَقُولُ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ: هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولانِ لَهُ: إِنْ كُنَّا لِنَعْلَمُ إِنَّكَ لَتَقُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ يَفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِينَ ذِرَاعًا، وَيُنَوَّرُ لَهُ فِيهِ، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ فَيَنَامُ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لا يُوقِظُهُ إِلا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ مُنَافِقًا قَالَ: لا أَدْرِي كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَكُنْتُ أَقُولُهُ، فَيَقُولانِ لَهُ: إِنْ كُنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ يُقَالُ لِلأَرْضِ: الْتَئِمِي عَلَيْهِ، فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهَا أَضْلاعُهُ، فَلا يَزَالُ مُعَذَّبًا حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ: خَبَرُ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ، سَمِعَهُ الأَعْمَشُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، وَزَاذَانُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ الْبَرَاءِ فَلِذَلِكَ لَمْ أُخَرِّجْهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا انسان کو قبر میں (دفنا دیا جاتا ہے)، تو اس کے پاس دو سیاہ اور زرد رنگ کے فرشتے آتے ہیں، ان میں سے ایک کو منکر کہا جاتا ہے اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے، وہ دونوں اس (مردے) سے کہتے ہیں: تم ان صاحب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو وہ وہی کہتا ہے جو (دنیا میں) کہا کرتا تھا، اگر وہ مومن ہو تو یہ کہتا ہے: یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو وہ دونوں فرشتے اس سے کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے، پھر وہ اس کے لیے اس کی قبر کو ستر ضرب ستر بالشت تک کشادہ کر دیتے ہیں اور اس کے لیے قبر کو روشن کر دیتے ہیں اور اس سے کہا جاتا ہے: تم سو جاؤ، تو وہ یوں سو جاتا ہے جس طرح دلہن سوتی ہے جسے صرف وہی بیدار کرتا ہے جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو یعنی اس کا شوہر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس کے اس بستر سے اسے اٹھائے گا، اور اگر وہ منافق ہو تو وہ یہ کہتا ہے: مجھے نہیں معلوم، میں لوگوں کو کوئی بات کہتے ہوئے سنتا تھا تو وہی بات کہہ دیتا تھا، تو فرشتے اسے کہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا کہ تم یہی کہو گے، پھر زمین سے کہا جاتا ہے: اسے دبوچ لو، تو وہ اسے یوں دبوچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں اور اس شخص کو مسلسل عذاب ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ اسے اس کی قبر سے اٹھائے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): اعمش نے منہال بن عمرو کے حوالے سے، انہوں نے زاذان کے حوالے سے اور انہوں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے جو روایت نقل کی ہے، اعمش نے وہ روایت حسن کے حوالے سے، انہوں نے عمارہ کے حوالے سے، انہوں نے منہال بن عمرو اور زاذان کے حوالے سے نقل کی ہے، لیکن انہوں نے یہ روایت سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے، اس لیے میں نے اس روایت کو نقل نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3117]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3117، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1071، والبزار فى (مسنده) برقم: 8462، 9760» «رقم طبعة با وزير 3107»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (1391)، «الظلال» (8641).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں