🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

254. فصل في النياحة ونحوها - ذكر الإباحة للنساء أن يبكين موتاهن ما لم يكن ثم نوح
نوحہ اور اس جیسی دیگر باتوں کے بیان میں فصل - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ عورتیں اپنے مردوں پر رونا جب تک کہ نوحہ نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3157
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الأَزْرَقِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَعَابَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، وَانْتَهَرَهُنَّ، فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الأَزْرَقِ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، وَأَنَا مَعَهُ، وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَنِسَاءٌ يَبْكِينَ عَلَيْهَا، فَزَجَرَهُنَّ، وَانْتَهَرَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ، فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ" ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
سلمہ بن ازرق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اسی دوران وہاں ایک جنازہ لایا گیا جس پر رویا جا رہا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر اعتراض کیا اور ان خواتین کو جھڑکا۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، خواتین اس میت پر رو رہی تھیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جھڑکا اور انہیں ڈانٹا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! انہیں کرنے دو، کیونکہ آنکھ آنسو بہا رہی ہے، جسم کو تکلیف لاحق ہے اور (افسوس ناک واقعہ) قریب ہی رونما ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3157]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3157، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1410، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1858، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1587، 1587 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7259، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5995» «رقم طبعة با وزير 3147»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «المشكاة» (1747)، «الضعيفة» (3603).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں