🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

281. فصل في الشهيد - ذكر البيان بأن القتلى من الشهداء إنما أمر بردهم إلى مصارعهم لئلا يدفنوا في غيرها
شہید کے بیان میں فصل - اس بات کا بیان کہ شہداء میں سے مقتولین کو ان کے مقام شہادت پر واپس کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ وہ کہیں اور دفن نہ ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3184
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ، فَقَالَ لِي أَبِي عَبْدِ اللَّهِ: يَا جَابِرُ، لا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نُظَّارِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا، فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ، فَبَيْنَما أَنَا فِي النَّظَّارِينَ، إِذْ جَاءَ ابْنُ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي، عَادَلَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ، فَدَخَلَ بِهِمَا الْمَدِينَةَ، لِيَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا، إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي:" أَلا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى، فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ"، قَالَ: فَرَجَعْنَاهُمَا مَعَ الْقَتْلَى حَيْثُ قُتِلَتْ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فَرَجَعْنَاهُمَا أُضْمِرَ فِي: فَدَفَنَّاهُمَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے مشرکین کی طرف جانے کے لیے روانہ ہوئے، تاکہ ان کے ساتھ جنگ کریں، تو میرے والد سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا اگر تم مدینہ میں رک جانے والے لوگوں میں شامل رہو، یہاں تک کہ تمہیں پتہ چل جائے ہمارا کیا بنا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر میں اپنے بعد بیٹیاں نہ چھوڑتا، تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ تم میرے سامنے شہید ہو جاتے (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں)، تو میں مدینہ منورہ میں ہی رک گیا اسی دوران میری پھوپھو کا بیٹا میرے والد اور میرے ماموں کی لاش لے کر آیا وہ اونٹ پر رکھ کر انہیں لایا تھا وہ انہیں لے کر مدینہ منورہ آ گیا تھا تاکہ ان دونوں کو ہمارے قبرستان میں دفن کرے اسی دوران ایک شخص نے یہ اعلان کیا خبردار بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم مقتولین کو واپس لے جاؤ اور انہیں میدان میں اسی جگہ دفن کرو جہاں وہ شہید کیے گئے تھے۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے ان دونوں صاحبان کو بھی مقتولین کے ہمراہ وہیں لٹا دیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): روایت کے یہ الفاظ کہ: ہم ان دونوں کو واپس لے آئے، اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے انہیں وہاں دفن کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 916، 918، 984، 3183، 3184، 6312، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3565، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2003، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1533، 3165، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1717، والدارمي فى (مسنده) برقم: 46، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 246، 1516، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2580، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14386» «رقم طبعة با وزير 3174»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الأحكام» (175).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں