صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
286. فصل في الشهيد - ذكر البيان بأن المصطفى لم يرد بقوله الشهداء خمسة نفيا عما وراء هذا العدد المحصور
شہید کے بیان میں فصل - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول "شہداء پانچ ہیں" سے اس مخصوص تعداد سے زیادہ کی نفی نہیں کی
حدیث نمبر: 3189
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ، فَصَاحَ بِهِ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ" فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ، وَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ"، قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِذَا مَاتَ" قَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنِّي كُنْتُ لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟" قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجَمْعٍ شَهِيدٌ" .
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ وہ مغلوب ہو چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلند آواز میں پکارا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» پڑھا اور فرمایا: ”اے ابوربیع! تمہارا معاملہ ہمارے بس سے باہر ہے“، تو خواتین نے بلند آواز سے رونا شروع کر دیا، سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں خاموش کروانے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انہیں کرنے دو، جب وہ واجب ہو جائے، تو پھر کوئی رونے والی نہ روئے“، لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! واجب ہونے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ان کا انتقال ہو جائے“، ان کی صاحبزادی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ آپ شہید ہوں گے، کیونکہ آپ نے اپنی تیاری مکمل کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس کی نیت کے مطابق اس کا اجر عطا کرے گا، تم لوگ کسے شہادت شمار کرتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں: پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیے کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، ملبے کے نیچے آنے والا شہید ہے اور زچگی کے وقت مرنے والی عورت شہید ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 802، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3189، 3190، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1304، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1845، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3111، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2803، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7253، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24250» «رقم طبعة با وزير 3179»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2723)، «أحكام الجنائز» (54).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null