صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
296. فصل في الشهيد - ذكر الوقت الذي فعل صلى الله عليه وسلم ما وصفنا من خبر عقبة بن عامر
شہید کے بیان میں فصل - اس وقت کا ذکر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن عامر کی خبر میں ہمارے بیان کردہ عمل کیا
حدیث نمبر: 3199
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَإِنِّي عَلَيْكُمْ لِشَهِيدٌ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، وَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا"، ثُمَّ دَخَلَ، فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَصَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّهَدَاءَ الَّذِي قُتِلُوا فِي الْمَعْرَكَةِ، بِتَرْكِ الصَّلاةِ عَلَيْهِمْ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَائِرِ الْمَوْتَى، فَإِنَّ سَائِرَ الْمَوْتَى يُغَسَّلُونَ، وَيُصَلَّى عَلَيْهِمْ، وَمَنْ قُتِلَ فِي الْمَعْرَكَةِ مِنَ الشُّهَدَاءِ لا يُصَلَّى عَلَيْهِمْ، وَيُدْفَنُ بِدَمِهِ مِنْ غَيْرِ غُسْلٍ، فَأَمَّا خَبَرُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَصَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ لَيْسَ يُضَادُّ خَبَرَ جَابِرٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أُحُدٍ، فَدَعَا لِشُهَدَاءِ أُحُدٍ كَمَا كَانَ يَدْعُو لِلْمَوْتَى فِي الصَّلاةِ عَلَيْهِمْ، وَالْعَرَبُ تُسَمِّي الدُّعَاءَ صَلاةً، فَصَارَ خُرُوجُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ، وَزِيَارَتُهُ إِيَّاهُمْ وَدُعَاؤُهُ لَهُمْ سُنَّةً، لِمَنْ بَعْدَهُ مِنْ أُمَّتِهِ أَنْ يَزُورُوا شُهَدَاءَ أُحُدٍ يَدْعُونَ لَهُمْ كَمَا يَدْعُونَ لِلْمَيِّتِ فِي الصَّلاةِ عَلَيْهِ، وَفِي خَبَرِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا، أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ كَانَتْ دُعَاءً لَهُمْ، وَزِيَادَةً قَصَدَ بِهَا إِيَّاهُمْ لَمَّا قَرُبَ خُرُوجُهُ مِنَ الدُّنْيَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَتِ الصَّلاةُ الَّتِي ذَكَرَهَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ كَالصَّلاةِ عَلَى الْمَوْتَى سَوَاءً، لَلَزِمَ مَنْ قَالَ بِهَذَا جَوَازُ الصَّلاةِ عَلَى الْقَبْرِ وَلَوْ بَعْدَ سَبْعِ سِنِينَ، لأَنَّ أُحُدًا كَانَتْ سَنَةَ ثَلاثٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَخُرُوجُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ صَلَّى عَلَيْهِمْ قُرْبَ خُرُوجِهِ مِنَ الدُّنْيَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ وَقْعَةِ أُحُدٍ بِسَبْعِ سِنِينَ، فَلَمَّا وَافَقْنَا مَنِ احْتَجَّ بِهَذَا الْخَبَرِ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ عَلَى الْقُبُورِ غَيْرُ جَائِزَةٍ بَعْدَ سَبْعِ سِنِينَ، صَحَّ أَنَّ تِلْكَ الصَّلاةَ كَانَتْ دُعَاءً لا الصَّلاةَ عَلَى الْمَوْتَى، سَوَاءً ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ يَرْوُونَ مَا لا يَعْقِلُونَ، وَيَتَكَلَّمُونَ بِمَا لا يَفْهَمُونَ، وَيَرَوُونَ الْمُتَضَادَّ مِنَ الأَخْبَارِ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداءِ اُحد کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے آگے پیش رو ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا، اللہ کی قسم! بے شک مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن گزشتہ رات مجھے زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف نہیں لائے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی (روح مبارکہ) کو قبض کر لیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے، وہ لوگ جو جنگ میں شہید ہوئے تھے کہ آپ نے ان کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی۔ اس بارے میں ان لوگوں اور دیگر مرحومین کے درمیان فرق کیا ہے؟ کیونکہ دیگر تمام مرحومین کو غسل بھی دیا جاتا ہے اور ان کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جاتی ہے، لیکن جو لوگ جنگ کے دوران شہید ہوتے ہیں، نہ ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے اور انہیں غسل دیے بغیر ان کے خون میں دفن کیا جاتا ہے، جہاں تک سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ نے شہداءِ اُحد کی نمازِ جنازہ ادا کی، تو یہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کے خلاف نہیں ہے جسے ہم ذکر کر چکے ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُحد تشریف لے گئے تھے اور بعد میں شہداءِ اُحد کے لیے دعا کی تھی، جس طرح آپ نمازِ جنازہ کے دوران دیگر مرحومین کے لیے دعا کیا کرتے تھے، تو عرب دعا کے لیے بھی لفظ «الصَّلَاةُ» ”نماز“ استعمال کر لیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہداءِ اُحد کی طرف جانا، ان کی زیارت کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا آپ کے بعد آپ کی امت کے لیے سنت ہے کہ وہ شہداءِ اُحد کی زیارت کریں اور ان کے لیے دعا کریں جس طرح نمازِ جنازہ میں میت کے لیے دعا کی جاتی ہے۔ اسی طرح سیدنا زید بن ابی انیسہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول وہ روایت جسے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے اور اس کے بعد آپ اپنے گھر سے باہر تشریف نہیں لائے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی (روح مبارکہ کو) قبض کر لیا، یہ اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ نماز دراصل ان کے لیے دعا تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ خاص ان حضرات کے لیے کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آ چکا تھا۔ اگر سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول اس روایت میں لفظ «الصَّلَاةُ» ”نماز“ سے مراد دیگر مرحومین کی نمازِ جنازہ کی طرح نماز ہوتی تو یہ بات لازم آتی کہ جو شخص اس بات کا قائل ہے، وہ قبر پر نمازِ جنازہ ادا کرنے کو جائز تسلیم کر لے، خواہ سات سال بعد ایسا کیا جائے، کیونکہ غزوۂ اُحد ہجرت کے تیسرے سال پیش آیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات کے لیے دعا کرنے کے لیے اس وقت تشریف لے گئے تھے جب آپ کا دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آ گیا تھا، تو یہ چیز غزوۂ اُحد کے سات سال بعد پیش آئی تھی، تو جو شخص اس روایت کے ذریعے یہ استدلال کرتا ہے کہ سات سال گزرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ ادا کرنا جائز نہیں ہے، اس سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ یہ «الصَّلَاةُ» ”نماز“ اصل میں دعا تھی، مرحومین کے لیے نمازِ جنازہ نہیں تھی، خواہ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہو جو اس بات کا قائل ہے کہ محدثین وہ روایت نقل کر دیتے ہیں جس کی انہیں سمجھ نہیں ہوتی اور وہ بات بیان کرتے ہیں جن کا انہیں فہم نہیں ہوتا اور متضاد روایات نقل کر دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1344، 3596، 4042، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3198، 3199، 3224، 6595، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1953، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3223، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6910، 6911، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1849، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17617» «رقم طبعة با وزير 3189»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح