🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر وصف عقوبة من لم يؤد زكاة ماله في القيامة
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ قیامت کے دن اس کی سزا کیا ہو گی جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3253
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحِيَى الْحَسَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ لَهُ مَالٌ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْمَى عَلَيْهِ صَفَائِحُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، يُكُوَى بِهَا جَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ تَسِيرُ عَلَيْهِ، كُلَمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا، رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ، فَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلا جَلْحَاءُ، كُلَمَا مَضَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا، رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس بھی بندے کے پاس مال موجود ہو، جس کی وہ زکاۃ ادا نہ کرتا ہو، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے (مال کو جمع کرے گا اور اسے تختیوں کی شکل میں جہنم کی آگ سے گرم کیا جائے گا، جس کے ذریعے اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جس وقت تک اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا جو ایک ایسے دن میں ہو گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال جتنی ہو گی جو تمہاری گنتی کے حساب سے ہیں، پھر اس کے بعد وہ شخص اپنا راستہ دیکھ لے گا جو جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا اور جو شخص اونٹوں کی زکاۃ ادا نہیں کرے گا اسے اونٹوں کے سامنے کھلے میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اونٹ پہلے سے زیادہ موٹے تازے ہوں گے، وہ اونٹ اس پر سے گزریں گے، جب آخری اس پر سے گزر جائے گا، تو پہلا دوبارہ اس پر آئے گا اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کر دے گا جو ایسے دن میں ہو گا، جس کی مقدار پچاس (50) ہزار سال کے برابر ہو گی، پھر وہ شخص اپنا راستہ دیکھے گا جو یا تو جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا؛ بکریوں کا جو بھی مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا ہو گا اسے ان بکریوں کے سامنے ایک کھلے میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ بکریاں پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہوں گی، وہ اپنے پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گی اور اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی، ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ والی یا بغیر سینگ کے نہیں ہو گی، جب ان میں سے آخری اس پر سے گزر جائے گی، تو پہلے والی واپس اس پر آئے گی اور ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اس دن میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرتا جس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، پھر وہ شخص اپنا راستہ دیکھ لے گا جو یا جنت کی طرف جاتا ہو گا یا جہنم کی طرف جاتا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3253]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، 3254، 3258، 3261، 3313، 3332، 4671، 4672، 4675، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873» «رقم طبعة با وزير 3242»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1462): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں