صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
85. باب مصارف الزكاة - ذكر الخبر الدال على أن أولاد المطلب وأولاد هاشم يستوون في تحريم الصدقة عليهم
زکاۃ کے مصارف کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مطلب کے بیٹوں اور ہاشم کے بیٹوں پر صدقہ حرام ہونے میں برابر ہیں
حدیث نمبر: 3297
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحِيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعَمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ اللَّهِ يُكَلَمَانِهِ فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ لِبَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمطَّلِبِ ابْنَيْ عَبْدِ مَنَافٍ، وَقَرَابَتُهُمْ مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ، فَقَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَسَمْتَ لإِخُوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ، وَبَنِي هَاشِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ مَنَافٍ، وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّ هَاشِمًا وَالْمُطَّلِبَ شَيْءٌ وَاحِدٌ"، قَالَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعَمٍ: وَلَمْ يَقْسِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، وَلا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمْسِ شَيْئًا، كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ .
سیدنا جبیر بن مطعم اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تاکہ خیبر کے خمس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تھا (یہ دونوں عبد مناف کی اولاد ہیں) اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کریں، کیونکہ ان لوگوں کی بھی وہی قرابت تھی جو ان لوگوں کی تھی، ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مطلب اور بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے ہمارے بھائیوں میں (خیبر کا خمس) تقسیم کیا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی چیز عطا نہیں کی“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا ہاشم اور مطلب ایک ہی نہیں ہیں (کیونکہ وہ ایک باپ کی اولاد ہے)“؟ تو سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس اور بنو نوفل کو اس خمس میں سے کچھ بھی نہیں دیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو اس میں سے دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3297]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3140، 3502، 4229، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3297، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4147، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2978، 2979، 2980، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2881، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2904، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17013» «رقم طبعة با وزير 3286»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1242): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم