🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

115. باب مَنْ قَالَ الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ مَنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ
باب: مستحاضہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک ایک غسل کرے درمیان میں وضو کیا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 301
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ الْقَعْقَاعَ، وَزَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ أَرْسَلَاهُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ يَسْأَلُهُ كَيْفَ تَغْتَسِلُ الْمُسْتَحَاضَةُ؟، فَقَالَ" تَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ، وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَثْفَرَتْ بِثَوْبٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، تَغْتَسِلُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ، وَكَذَلِكَ رَوَى دَاوُدُ، وَعَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ، إِلَّا أَنَّ دَاوُدَ، قَالَ: كُلَّ يَوْمٍ، وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ، عِنْدَ الظُّهْرِ، وَهُوَ قَوْلُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَالِكٌ: إِنِّي لَأَظُنُّ حَدِيثَ ابْنِ الْمُسَيَّبِ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ، فَقَلبَهَا النَّاسُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ، وَلَكِنَّ الْوَهْمَ دَخَلَ فِيهِ، وَرَوَاهُ الْمِسْوَرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، قَالَ فِيهِ: مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ، فَقَلَبَهَا النَّاسُ مِنْ ظُهْرٍ إِلَى ظُهْرٍ.
ابوبکر کے غلام سمیّ کہتے ہیں کہ قعقاع اور زید بن اسلم دونوں نے انہیں سعید بن مسیب کے پاس یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا کہ مستحاضہ عورت کس طرح غسل کرے؟ تو انہوں نے کہا: وہ ایک ظہر سے دوسرے ظہر تک ایک غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور اگر استحاضہ کا خون زیادہ آئے تو کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عمر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے کہ وہ ظہر سے ظہر تک ایک غسل کرے، اور اسی طرح داود اور عاصم نے شعبی سے، شعبی نے اپنی بیوی سے، انہوں نے قمیر سے، اور قمیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، مگر داود کی روایت میں لفظ «كل يوم» کا (اضافہ) ہے یعنی ہر روز غسل کرے، اور عاصم کی روایت میں «عند الظهر» کا لفظ ہے اور یہی قول سالم بن عبداللہ، حسن اور عطاء کا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ ابن مسیب کی حدیث: «من ظهرٍ إلى ظهرٍ» کے بجائے «من طهرٍ إلى طهرٍ» ہے، لیکن اس میں وہم داخل ہو گیا اور لوگوں نے اسے بدل کر «من ظهرٍ إلى ظهرٍ» کر دیا، نیز اسے مسور بن عبدالملک بن سعید بن عبدالرحمٰن بن یربوع نے روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے «من طهر إلى طهر» کہا ہے، پھر لوگوں نے اسے «من ظهرٍ إلى ظهرٍ» میں بدل دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 301]
سمی مولیٰ ابی بکر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ قعقاع اور زید بن اسلم نے مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس بھیجا کہ ان سے مستحاضہ کے غسل کے بارے میں سوال کروں، تو انہوں نے کہا: ظہر سے ظہر تک کے لیے غسل کرے اور (اس کے مابین) باقی ہر نماز کے لیے وضو کرے اور اگر اس پر خون غالب ہو تو کپڑے کا لنگوٹ باندھ لیا کرے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے (بھی یہی) مروی ہے کہ ظہر سے ظہر تک کے لیے وضو کرے اور ایسے ہی داود اور عاصم نے شعبی رحمہ اللہ سے، وہ اپنی زوجہ سے، وہ قمیر (زوجہ مسروق) سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، مگر داود نے کہا کہ ہر روز غسل کرے۔ اور عاصم کی روایت میں ہے کہ ظہر کے وقت غسل کرے۔ اور یہی قول ہے سالم بن عبداللہ، حسن اور عطاء رحمہم اللہ کا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن مسیب رحمہ اللہ کی حدیث ظہر سے ظہر تک کے بارے میں میرا گمان ہے کہ یہ دراصل طہر سے طہر تک ہے لیکن کسی کو وہم ہوا تو اس نے اسے ظہر سے ظہر تک بنا دیا، جبکہ مسور بن عبدالملک رحمہ اللہ نے اس روایت کو طہر سے طہر تک ہی بیان کیا ہے، مگر لوگوں نے اسے ظہر سے ظہر تک بنا دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 301]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏موطا امام مالک/الطہارة 29 (107)، أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 84 (837) (صحیح)» ‏‏‏‏ (انس، عائشہ اور حسن کے اقوال بھی سنداً صحیح ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں