🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. - باب حرمة المناكحة - ذكر الإخبار عن نفي جواز تزويج المرء أخته من الرضاع
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کا اپنی رضاعی بہن سے نکاح جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4110
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ:" أَصْنَعُ بِهَا مَاذَا؟"، قَالَتْ تَنْكِحُهَا، قَالَ:" وَهَلْ تَحِلُّ لِي؟"، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطِبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ زَيْنَبَ تَحْرُمُ عَلَيَّ، وَإِنَّهَا فِي حِجْرِي، وَأَرْضَعَتْنِي وَإِيَّاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلا أَخَوَاتِكُنَّ، وَلا عَمَّاتِكُنَّ، وَلا خَالاتِكُنَّ، وَلا أُمَّهَاتِكُنَّ" .
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ درہ بنت ابوسفیان میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”میں اس کے ساتھ کیا کروں؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ اس کے ساتھ شادی کر لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا وہ میرے لیے جائز ہے؟“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ پتہ چلا ہے آپ زینب بنت ام سلمہ کو نکاح کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زینب میرے لیے حرام ہے، وہ میری زیر پرورش ہے (یعنی میری سوتیلی بیٹی ہے) اور مجھے اور اسے ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، تم اپنی بیٹیوں، اپنی بہنوں، اپنی پھوپھیوں، اپنی خالاؤں اور اپنی ماؤں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5101، 5106، 5107، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4110، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3284، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1939، 1939 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13568، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27137، والحميدي فى (مسنده) برقم: 309» «رقم طبعة با وزير 4098»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1795): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں