🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

88. - باب حرمة المناكحة - ذكر الزجر عن أن يخطب المرء النساء وهو محرم
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی محرم حالت میں عورتوں سے منگنی کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4123
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ، وَهُمَا مُحْرِمَانِ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلا يَخْطُبُ، وَلا يُنْكِحُ" .
عمر بن عبید اللہ سے یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے ابان بن عثمان کو پیغام بھجوایا، ابان ان دنوں امیرِ حج تھے اور یہ دونوں صاحبان احرام کی حالت میں تھے، (پیغام یہ بھجوایا کہ) میں طلحہ بن عمر کا نکاح شیبہ بن جبیر کی صاحبزادی کے ساتھ پڑھانے لگا ہوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ اس موقع پر آپ بھی موجود ہوں، تو ابان بن عثمان نے ان کی بات پر انکار کیا اور یہ بات بیان کی کہ میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ» ”احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا، نکاح کا پیغام نہیں دے سکتا اور کسی دوسرے کا نکاح نہیں کروا سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4123]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1409، الجارود فى "المنتقى"، 489، 752، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4123، 4124، 4125، 4126، 4127، 4128، 4139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1841، والترمذي فى (جامعه) برقم: 840، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1966، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9243، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 408، والحميدي فى (مسنده) برقم: 33» «رقم طبعة با وزير 4111»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1037)، «صحيح أبي داود» (1614): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں