🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. ذكر الخبر الدال على أن الحدود يجب أن تقام على من وجبت شريفا كان أو وضيعا-
- ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ حدود اس پر قائم کی جائیں جن پر لازم ہو، خواہ وہ شریف ہو یا ادنیٰ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4402
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِِلا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ؟" ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ، فَقَالَ:" إِِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَأَيْمُ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش ایک مخزومی خاتون کے معاملے میں بہت پریشان تھے جس نے چوری کی تھی، لوگوں نے کہا: اس خاتون کے بارے میں کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرے گا؟ تو کسی نے کہا: یہ جرأت صرف اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کر سکتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں، جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ جب ان میں سے بڑے خاندان کا کوئی شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور خاندان کا شخص چوری کرتا تھا تو وہ اس پر حد جاری کر دیا کرتے تھے، اللہ کی قسم! اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی صاحبزادی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کٹوا دیتا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 4402]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2648، 3475، 3732، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1688، وابن الجارود فى "المنتقى"، 868، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4402، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4909 /، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4373، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1430، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2547، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17252، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24772» «رقم طبعة با وزير 4386»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ابن ماجه» (2547): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں