🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

65. باب حد السرقة - ذكر بعض العدد المحصور المستثنى من جملته الخارج حكمه من حكمه-
چوری کی حد کا بیان - اس خاص مقدار کا بیان جو عمومی حکم سے مستثنیٰ کی گئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4466
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحِرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ الْعَطَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّ غُلامًا سَرَقَ وَدْيًا مِنْ حَائِطٍ، فَرُفِعَ إِِلَى مَرْوَانَ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : إِِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا قَطَعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عُمُومُ الْخِطَابِ فِي الْكِتَابِ قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا سورة المائدة آية 38، فَأَمَرَ بِقَطْعِ السَّارِقِ إِِذَا مَا سَرَقَ، ثُمَّ فَسَّرَتْهُ السُّنَّةُ بِأَنْ لا قَطَعَ عَلَى سَارِقِ الثَّمَرِ وَلا الْكَثَرِ، وَأَنْ لا قَطَعَ إِِلا فِي رُبْعِ دِينَارٍ، فَكَانَ الْمُرَادُ مِنَ الْخِطَابِ مِنَ الْكِتَابِ: فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا سورة المائدة آية 38: إِِذَا سَرَقُ رُبْعُ دِينَارٍ، وَمَا يَقُومُ مَقَامَهُ سِوَى الثَّمَرِ وَالْكَثَرِ.
سیدنا واسع بن حبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکے نے ایک باغ سے کھجور کا پودا چوری کر لیا، یہ مقدمہ مروان کی خدمت میں پیش ہوا تو اس نے اس لڑکے کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، تو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” «لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ» پھل اور کثر کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتاب میں خطاب کا حکم عمومی ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا﴾ [سورة المائدة: 38] ”چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو“، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ چور جب بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، لیکن پھر سنت نے اس کی وضاحت کی ہے کہ پھل اور کثر کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ہاتھ صرف اس وقت کاٹا جائے گا جب ایک چوتھائی دینار کی قیمت والی چیز کو چوری کیا جائے گا، تو کتاب میں خطاب سے مراد یہ ہے: ان دونوں کا ہاتھ اس وقت کاٹو جب وہ ایک چوتھائی دینار قیمت والی چیز کو چوری کریں یا اس چیز کو چوری کریں جو اس کے قائم مقام ہو اور جو پھل اور کثر کے علاوہ ہو)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 4466]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3104، وابن الجارود فى "المنتقى"، 892، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4466، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4975، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4388، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1449، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2593، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16046، والحميدي فى (مسنده) برقم: 411» «رقم طبعة با وزير 4449»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني تنبيه!! هذا الحديث تكرر في «طبعة باوزير» في موضعين متتاليين الموضع الأول (4449) وقال عنه الشيخ: صحيح - «ابن ماجه» (2593). الموضع الثاني (4449/*) وقال عنه الشيخ: صحيح - وهو مكرر ما قبله. أما في «طبعة المؤسسة» فلم يرد الحديث إلا في هذا الموضع لكن الحديث مكرر ولا فرق بينهما أبدا لا في الإسناد ولا في المتن. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں