صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
69. باب قطع الطريق - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم طرح العرنيين في الشمس بعد تعذيبه إياهم بما عذب حتى ماتوا-
راہزنی کی حد کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیوں کو ان پر کیے گئے عذاب کے بعد دھوپ میں ڈال دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
حدیث نمبر: 4470
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، قَالَ: إِِيَّايَ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعُوهُ عَلَى الإِِسْلامِ، فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ، وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا؟" فَقَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُّوا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَجَلَبَهُمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل قبیلے سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کیا، اس علاقے کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی اور ان کے جسم بیمار ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اونٹوں کی طرف کیوں نہیں چلے جاتے؟ وہاں تم ان کا دودھ اور پیشاب پی لینا۔“ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، پھر وہ لوگ نکلے (اور وہاں چلے گئے) وہاں انہوں نے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا، جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ساتھ لے گئے، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو روانہ کیا، انہوں نے انہیں پکڑ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں اور انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا، یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں مر گئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 4470]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 233، 1501، 3018، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1671، وابن الجارود فى "المنتقى"، 913، 914، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 115، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1386، 1387، 1388، 4467، 4468، 4469، 4470، 4471، 4472، 4474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8189، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4364، والترمذي فى (جامعه) برقم: 72، 73، 1845، 2042، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2578، 3503، والدارقطني فى (سننه) برقم: 476، 3263، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12224» «رقم طبعة با وزير 4453»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين