🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

65. باب إِمَامَةِ الأَعْمَى
باب: نابینا کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ أَعْمَى".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 595]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے سفر غزوہ کے موقع پر) سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنایا تھا اور یہی لوگوں کو امامت کراتے تھے اور یہ نابینا تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/192) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: نابینے شخص کی امامت بلا کراہت جائز ہے بشرطیکہ اس میں صلاحیت ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1121)
وله شاھد عند ابن حبان (370 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں