صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
44. باب البيع المنهي عنه - ذكر وصف بيع حبل الحبلة الذي نهي عنه-
ممنوعہ بیوع کا بیان - اس بیع «حبل الحبلة» کی تفصیل بیان کی گئی جس سے ممانعت آئی ہے۔
حدیث نمبر: 4947
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ هُوَ أَنْ يَشْتَرِيَ الْمَرْءُ بَعِيرًا عَلَى أَنْ يُوَفِّرَ ثَمَنَهُ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ نَاقَةُ الْفُلانِيَّةِ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا، فَهَذَا أَجَلٌ يَتَلَقَّاهُ غَرَرَانِ اثْنَانِ، وَلا يَحِلُّ اسْتِعْمَالُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔“ زمانہ جاہلیت کے لوگ یہ سودا کیا کرتے تھے۔ ایک شخص اونٹ کو یوں خریدتا تھا کہ جب اس اونٹنی کے ہاں بچہ ہوگا اور پھر اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ہاں بچہ ہوگا، (تو اس وقت ادائیگی کی جائے گی)، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حمل کے حمل کو فروخت کرنے کی ممانعت سے مراد یہ ہے: ایک شخص کوئی اونٹ خریدتا ہے اس شرط پر کہ وہ اس کی پوری قیمت اس وقت ادا کرے گا جب فلاں اونٹنی کے ہاں بچہ ہو جائے گا اور اس کے ہونے والے بچے کے ہاں بچہ ہو جائے گا تو یہ اس کی طے شدہ مدت ہوتی تھی۔ اس میں دو قسم کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 4947]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2143، 2256، 3843، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1514، وابن الجارود فى "المنتقى"، 644، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4946، 4947، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4637، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3380، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1229، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2197، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10971، وأحمد فى (مسنده) برقم: 401» «رقم طبعة با وزير 4926»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين