صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
99. باب البيع المنهي عنه - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن بيع الثمر بالثمر-
ممنوعہ بیوع کا بیان - اس علت کا بیان جس کی وجہ سے پھل کو پھل کے بدلے بیچنے سے روکا گیا
حدیث نمبر: 5003
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ قَالَ: الْبَيْضَاءُ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنْ يَبِسِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟" قَالَ: نَعَمْ،" فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ" .
ابوعیاش زید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے جو کی ایک قسم کے عوض میں دوسری قسم کے لین دین کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے دریافت کیا کہ ان دونوں میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سفید والا، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کر دیا اور یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تر کھجور کے عوض میں خشک کھجور کو فروخت کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» ”کیا تر کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہے؟“ سائل نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سے منع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 5003]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 2312، وابن الجارود فى "المنتقى"، 714، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4997، 5003، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2277، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4559، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3359، 3360، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1225، 1225 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2264، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10667، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2994، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1534» «رقم طبعة با وزير 4982»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (4776). تنبيه!! رقم (4776) = (4796) من «طبعة المؤسسة». لكن الحديث ليس موجود بالرقم المشار إليه، وإنما موجود برقم (4976) الموافق لـ (4997) من طبعة المؤسسة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن