سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
99. باب مُقَامِ الصِّبْيَانِ مِنَ الصَّفِّ
باب: بچے صف میں کہاں کھڑے ہوں؟
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ، حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ، حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَفَّ الرِّجَالَ وَصَفَّ خَلْفَهُمُ الْغِلْمَانَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَذَكَرَ صَلَاتَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا صَلَاةُ"، قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ: صَلَاةُ أُمَّتِي.
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے مردوں کی صف لگوائی، ان کے پیچھے بچوں کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر ابومالک رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز کی کیفیت بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میری امت کی) نماز اسی طرح ہے“۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ نے ”میری امت کی نماز“ فرمایا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 677]
جناب عبدالرحمٰن بن غنم نے کہا کہ سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا میں تمہارے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بیان کروں؟“ چنانچہ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت کہی، پھر مردوں کی صف بنائی اور پھر بچوں کی صف ان کے پیچھے بنائی اور انہیں نماز پڑھائی۔ اور ابومالک رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری نماز بیان کی، پھر فرمایا: ”ایسے ہی ہے نماز!“، عبدالاعلیٰ نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ”ایسے ہی ہے نماز میری امت کی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12164)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/341، 343، 344) (ضعیف)» (اس کے راوی شہر بن حوشب ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1115)
مشكوة المصابيح (1115)