صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
128. باب الجائحة - ذكر البيان بأن وضع الجوائح من الخير الذي يتقرب به إلى البارئ جل وعلا-
آفت و نقصان کا بیان - بیان کہ جائحة کی صورت میں قیمت میں رعایت دینا اللہ تعالیٰ کے قرب کا باعث ہے
حدیث نمبر: 5032
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي، إِنِّي ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلانٍ ثَمَرَ مَالِهِ، فَأَحْصَيْنَاهُ، لا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ مَا أَحْصَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِلا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فِي بُطُونِنَا أَوْ نُطْعِمُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ، وَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُهُ مَا نَقَصْنَا، فَحَلَفَ بِاللَّهِ لا يَضَعُ لَنَا شَيْئًا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَأَلَّى لا يَصْنَعُ خَيْرًا!"، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتْ: فَبَلَغَ ذَلِكَ صَاحِبَ الثَّمَرِ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي، إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَا نَقَصُوا، وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ، فَوَضَعَ مَا نَقَصُوا .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے اور میرے بیٹے نے فلاں شخص سے اس کے مال (باغ یا زمین) کا پھل خریدا اور ہم نے اسے شمار کیا۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو اتنی عظمت و شان عطا کی ہے، ہم نے وہ اپنے پیٹ میں ڈال کر کھا لیا یا برکت کی امید رکھتے ہوئے کسی غریب کو کھلا دیا، پھر ہم آئے اور اپنے ہونے والے نقصان کے حوالے سے اس سے (معاوضے میں) کمی کی درخواست کی تو اس نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ وہ ہمارے لیے کوئی معافی نہیں رکھے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے یہ قسم اٹھائی ہے کہ وہ بھلائی نہیں کرے گا۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس بات کی اطلاع اس پھل کے مالک تک پہنچی تو اس نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اگر آپ چاہیں تو ان کا جو نقصان ہوا ہے میں اسے معاف کر دیتا ہوں اور اگر آپ چاہیں تو میں تمام ادائیگی معاف کر دیتا ہوں، تو اس شخص نے ان کے نقصان کے حساب سے ادائیگی معاف کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 5032]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5032، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25043، 25381» «رقم طبعة با وزير 5010»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (3705)، م (1557).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي