🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. ذكر العلة التي من أجلها زجر عن استعمال العمرى-
- اس علت کا بیان جس کی وجہ سے «عمرٰی» کے استعمال سے روکا گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5141
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلا تُعْمِرُوهَا، فَإِنَّهُ مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ، وَلِوَرَثَتِهِ إِذَا مَاتَ" ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ: زَجَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ وَالْعُمْرَى وَالرُّقْبَى كَانَ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ، وَهِيَ إِبْقَاؤُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ، لا أَنَّ اسْتِعْمَالَ هَذِهِ الأَشْيَاءِ جَائِزٌ إِذَا كَانَ طَاعَةً لا مَعْصِيَةً، وَذَاكَ أَنَّ الصَّحَابَةَ قَطَنُوا الْمَدِينَةَ وَلا مَالَ لَهُمْ بِهَا، فَكَرِهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمُ الرُّقْبَى وَالْعُمْرَى إِبْقَاءً عَلَى أَمْوَالِهِمْ لِلضَّرُورَةِ الْوَاقِعَةِ الَّتِي كَانَتْ بِهِمْ، لا أَنَّهُمَا لا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُمَا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے اموال اپنے پاس رکھو انہیں عمریٰ کے طور پر نہ دو کیونکہ جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی جائے وہ اس کی زندگی میں اس کی ملکیت ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کو ملے گی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے اور عمریٰ اور رقبیٰ کے طور پر کوئی چیز دینے سے منع کیا ہے جس کی ایک متعین علت ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے اموال ان کے پاس رہنے دینا چاہتے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: ان تین چیزوں پر عمل کرنا جائز نہیں ہے جب کہ وہ فرمانبرداری کے کاموں میں ہوں معصیت کے طور پر نہ ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کی تھی۔ وہاں ان کے پاس کوئی زمین نہیں تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا کہ وہ رقبیٰ یا عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ ان کے اموال ان کے پاس باقی رہیں کیونکہ انہیں ان کی ضرورت تھی، اس سے یہ مراد نہیں ہے: ان دونوں چیزوں پر عمل کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرُّقْبَى وَالعُمْرَى/حدیث: 5141]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2626، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1625، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1060، 1063، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5127، 5128، 5129، 5136، 5140، 5141، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3556، 3558، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1351، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2383، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12092، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9677، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1293» «رقم طبعة با وزير 5119»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الإرواء» (1607): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں