🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. ذكر البيان بأن هذا العدد المذكور لم يرد به النفي عما دونه-
- باب اس بیان کا کہ مذکورہ عدد (سات) سے اس کے علاوہ گناہوں کی نفی مراد نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5562
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكَبَائِرُ؟ قَالَ:" الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ" ، قُلْتُ لِعَامِرٍ: مَا الْيَمِينُ الْغَمُوسُ؟ قَالَ: الَّذِي يَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ صَبْرٍ، وَهُوَ فِيهَا كَاذِبٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کبیرہ گناہ کون سا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا۔“ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر والدین کی نافرمانی کرنا۔“ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جھوٹی قسم اٹھانا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے استاد عامر رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ «الْيَمِينُ الْغَمُوسُ» ”یمین غموس“ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ کہ آدمی جھوٹی قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5562]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6675، 6870، 6920، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5562، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4022، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3021، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2405، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19927، 19928، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7003» «رقم طبعة با وزير 5536»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں