🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

56. باب المثلة-
مُثلہ (یعنی بدن بگاڑنے یا مثلہ کرنے) کی ممانعت کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5615
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا، فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى، فَتَقْطَعُ آذَانَهَا، فَتَقُولُ: هَذِهِ بُحُرٌ، أَوْ تَشُقُّ جُلُودَهَا، وَتَقُولَ: هَذِهِ صُرُمٌ، فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ، سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:" سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ": مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لا يَتَهَيَّأُ مَعْرِفَةُ الْخَطَّابِ فِي الْقَصْدِ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ إِلا بِهِ، وَقَوْلُهُ:" فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ": لَفْظَةُ أَمْرٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ سَبَبِ ذَلِكَ الشَّيْءِ، وَهُوَ اسْتِعْمَالُ الْقَوْمِ فِي الإِبِلِ قَطْعَ الآذَانِ، وَشَقَّ الْجُلُودِ، وَتَحْرِيمَهَا عَلَيْهَا.
ابو الاحوص اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ایسا ہے کہ تمہاری قوم کے اونٹ صحیح و سالم کانوں والے بچے کو جنم دیتے ہیں، پھر کوئی شخص استرا لے کر اس کا کان کاٹ دیتا ہے اور کہتا ہے: یہ بحر (یعنی فلاں بت کے لیے مخصوص) ہے، یا وہ اس کی کھال کو چیر دیتا ہے اور کہتا ہے: یہ صرم (یعنی فلاں بت کے لیے مخصوص ہے)، اور پھر وہ شخص اس اونٹ کو اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے حرام قرار دے دیتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں جو بھی چیز عطا کرتا ہے وہ حلال ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ تعالیٰ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ”اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے“، یہ لوگوں کے محاورے کے مطابق ہے کیونکہ سننے والے تک یہ مفہوم ان کے محاورے کے مطابق ہی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے وہ تمہارے لیے حلال ہے“، یہاں پر لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز کے سبب سے منع کرنا ہے اور وہ لوگوں کا اونٹوں کے بارے میں یہ طرز عمل اختیار کرنا ہے کہ وہ ان کے کان کاٹ دیتے ہیں اور ان کی کھال چیر دیتے ہیں، پھر اسے اپنے لیے حرام قرار دے دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5615]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3410، 5416، 5417، 5615، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 66، 7457، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3797، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4063، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2006، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2109، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19772، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16132» «رقم طبعة با وزير 5586»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 104). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں