صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
84. باب قتل الحيوان - ذكر الخبر الدال على أن النهي عن قتل ذوات البيوت من الحيات إنما هو مستثنى عن جملة الأمر بقتلهن-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - بیان کیا گیا کہ گھروں میں رہنے والے سانپ کے قتل سے منع صرف عام حکم سے مستثنیٰ ہے
حدیث نمبر: 5643
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ" ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا كُنْتُ أَدَعُ حَيَّةً إِلا قَتَلْتُهَا، حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً مِنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ، فَنَهَيَانِي عَنْ قَتْلِهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ، فَقَالا: إِنَّهُ" نَهَى عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ".
سالم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”سانپوں کو مار دو، (بطورِ خاص) دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو مار دو، کیونکہ یہ نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے جو بھی سانپ نظر آتا تھا، میں اسے مار دیتا تھا، یہاں تک کہ ایک مرتبہ سیدنا ابولبابہ بن عبدالمندر اور سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا، میں اس وقت گھر میں نکل آنے والے ایک سانپ کا پیچھا کر رہا تھا، انہوں نے مجھے اسے مارنے سے منع کر دیا۔ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں نکل آنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5643]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3297، 3310، 3312، 4016، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2233، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3579، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5638، 5639، 5642، 5643، 5645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5252، 5253، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1483، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3535، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4646» «رقم طبعة با وزير 5614»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين