صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
162. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الزجر عن قول المرء لما حرث زرعت-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر منع کہ انسان یہ کہے کہ میں نے جو کھیتی کی وہ میری محنت سے اگی
حدیث نمبر: 5723
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: زَرَعْتُ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: حَرَثْتُ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ سورة الواقعة آية 63 - 64 .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص یہ ہرگز نہ کہے: «زَرَعْتُ» ”میں نے زراعت کی“، بلکہ وہ یہ کہے: «حَرَثْتُ» ”میں نے کھیتی باڑی کی“۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ * أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ﴾ [سورة الواقعة: 63-64] ”تمہاری کیا رائے ہے کیا تم نے اس میں کھیتی باڑی کی ہے کیا تم زراعت کرتے ہو یا ہم زراعت کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5723]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5723، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11868، والبزار فى (مسنده) برقم: 10064، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8024» «رقم طبعة با وزير 5693»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2801)، «البيوع». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح