سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
170. باب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: گردن موڑے بغیر نماز میں کنکھیوں سے دیکھنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 916
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ هُوَ أَبُو كَبْشَةَ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ.
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 916]
سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نماز فجر کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران میں ایک گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ”آپ نے ایک شہسوار کو اس گھاٹی کی طرف رات میں پہرے کے لیے بھیجا تھا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود،(تحفة الأشراف: 4651) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (487 وسنده حسن)
صححه ابن خزيمة (487 وسنده حسن)