صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
313. فصل في السماع - ذكر خبر ثان تعلق به غير المتبحر في صناعة العلم فأباح الغناء الذي يبعد عن الله جل وعلا-
سماع (گانے بجانے وغیرہ) کے بیان میں ایک فصل - ذکر دوسری خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر نے پکڑی اور اس نے اس گانے کی اجازت دی جو اللہ جل وعلا سے دور کرتا ہے
حدیث نمبر: 5876
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِدُفَّيْنِ، وَتُغَنِّيَانِ فِي أَيَّامِهِمَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَتِرٌ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ وَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَمَّا قَدِمَ وَفْدُ الْحَبَشَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامُوا يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْأَمُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ. قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ، فَإِنَّهُمْ هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے اس وقت ان کے پاس دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی دف بجا کر گانا گا رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر آرام فرما رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں لڑکیوں کو ڈانٹا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا ہٹایا اور فرمایا: اے ابوبکر انہیں کرنے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب حبشیوں کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ لوگ مسجد میں کھڑے ہو کر کرتب دکھانے لگے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے مجھے اپنی چادر کی اوٹ میں کر لیا میں ان لوگوں کو دیکھتی رہی وہ لوگ مسجد میں کرتب دکھا رہے تھے یہاں تک کہ میں ہی اکتا گئی تم لوگ خود اندازہ کر لو کہ ایک ایسی لڑکی جس کی عمر کم ہو اسے اس طرح کے کھیل کود دیکھنے کا کتنا شوق ہو گا۔
زہری بیان کرتے ہیں: سعید بن مسیب نے مجھے یہ بات بتائی ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے اس وقت حبشی لوگ مسجد میں کرتب دکھا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! انہیں کرنے دو کیونکہ یہ بنو ارفدہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5876]
زہری بیان کرتے ہیں: سعید بن مسیب نے مجھے یہ بات بتائی ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے اس وقت حبشی لوگ مسجد میں کرتب دکھا رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! انہیں کرنے دو کیونکہ یہ بنو ارفدہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5876]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 454، 455، 949، 952، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 892، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5868، 5869، 5871، 5876، 5877، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1592، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3691، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1898، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13657، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24683»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
(1) صحيح - «غاية المرام» (399): ق. <br> (2) صحيح - «آداب الزفاف»: ق دون قدوم الحبشة. <br> (3) صحيح - «الصحيحة» (3128).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
(1) إسناده صحيح على شرط البخاري <br> (2) إسناده صحيح على شرط البخاري <br> (3) إسناده صحيح على شرط البخاري