صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. ذكر الإباحة للمرء أكل ما حبس عليه كلبه المعلم إذا ذكر اسم الله عليه-
- ذکر اجازت کہ انسان اس شکار کو کھائے جو اس کے تربیت یافتہ کتے نے پکڑا ہو اگر اس پر اللہ کا نام پڑھا گیا ہو
حدیث نمبر: 5881
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلابَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ، وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلِّمَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلْنَ، مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا"، قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، فَخَزَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلا تَأْكُلْهُ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتا ہوں، وہ میرے لیے شکار روک لیتا ہے اور میں اس پر اللہ کا نام بھی ذکر کر دیتا ہوں (تو اس کا کیا حکم ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتے وقت اس پر اللہ کا نام لے لو، تو تم اسے کھا لو۔“ میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو، بشرطیکہ اس کے ہمراہ کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان میں شامل نہیں تھا۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں بعض اوقات تیر مارتا ہوں جو اسے لگ جاتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم تیر کو چوڑائی کی سمت میں مارتے ہو اور وہ اسے پھاڑ دیتا ہے تو تم اسے کھا لو، لیکن اگر وہ اس کو چوڑائی کی سمت میں لگتا ہے (اور جانور چوٹ لگنے سے مرتا ہے) تو تم اسے نہ کھاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّيْدِ/حدیث: 5881]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 175، 2054، 5475، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1929، وابن الجارود فى "المنتقى"، 983، 984، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5880، 5881، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4274، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2847، 2848، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1465، 1465 م، 1468، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3208، 3212، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18934، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4798، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18534» «رقم طبعة با وزير 5851»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2537): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين