🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. ذكر البيان بأن ذبح أبي بردة الأضحية قبل الصلاة كان ذلك عن ابنه لا عن نفسه-
- ذکر بیان کہ ابو بردہ کی قربانی قبل از نماز اس کے بیٹے کی طرف سے تھی نہ کہ اس کی اپنی طرف سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5908
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي فِرَاسٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا، وَصَلَّى صَلاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَلا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ"، فَقَالَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَسَكْتُ عَنِ ابْنٍ لِي، قَالَ:" ذَاكَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ لأَهْلِكَ"، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِيَ جَذَعَةً، قَالَ:" ضَحِّ بِهَا عَنْهُ، فَإِنَّهَا خَيْرُ نُسُكِهِ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے، ہماری طرح نماز ادا کرے اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کرے، تو وہ نماز ادا کرنے سے پہلے قربانی نہ کرے۔ تو میرے ماموں سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو اپنے بیٹے کی طرف سے قربانی کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے جسے تم نے اپنے اہل خانہ کے لیے جلدی تیار کر لیا ہے۔ انہوں نے عرض کی: میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تم اس کی طرف سے قربان کر لو کیونکہ یہ بہترین قربانی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأُضْحِيَةِ/حدیث: 5908]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 951، 955، 965، 968، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1961، وابن الجارود فى "المنتقى"، 976، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1427، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5906، 5907، 5908، 5910، 5911، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1562، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2800، 2801، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1508، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18773» «رقم طبعة با وزير 5878»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (4/ 367)، «صحيح الموارد» (877/ 1053): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں