🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. ذكر خبر ثان يصرح بالشرط الذي تقدم ذكرنا له-
- ذکر دوسری خبر جو ہمارے پہلے ذکر کردہ شرط کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5918
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ: كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الأَضْحَى، فَإِذَا أُنَاسٌ قَدِ اطَّلَوْا، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ فِي الْحَمَّامِ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَكْرَهُ هَذَا وَيَنْهَى عَنْهُ، قَالَ: فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ ابْنَ أَخِي: إِنَّ هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَ أَحَدِكُمْ ذِبْحٌ يُرِيدُ أَنْ يَذْبَحَهُ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ" .
عمر بن مسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عید الاضحیٰ سے کچھ عرصہ پہلے حمام میں موجود تھے، وہاں کچھ لوگوں نے بال صاف کرنے کی تیاری کی تو حمام میں موجود ایک شخص نے کہا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے اور وہ اس سے منع کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میری ملاقات سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے ہوئی، میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اس حدیث کو بھلا دیا گیا ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب (ذوالحجہ کا پہلا) عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے قربان کرنے کا اس کا ارادہ ہو تو اسے (قربانی کرنے تک) اپنے بال اور ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الأُضْحِيَةِ/حدیث: 5918]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1977، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5897، 5916، 5917، 5918، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7613، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2791، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1523، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1990، 1991، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3149، 3150، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19096، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4745، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27117» «رقم طبعة با وزير 5888»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں