صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. ذكر البيان بأن المرتهن له ركوب الظهر إذا كان مرهونا وشرب لبن الدر إذا كانت النفقة من ناحيته-
- ذکر بیان کہ رہن لینے والے کو رہن کی ہوئی چیز پر سواری اور دودھ پینے کا حق ہے اگر نفقہ اس کی طرف سے ہو
حدیث نمبر: 5935
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رہن (کے جانور) پر سوار کی جا سکتی ہے جو اس کے خرچ کے عوض میں ہو گی اور جانور کا دودھ پیا جا سکتا ہے جب کہ اسے رہن رکھا گیا ہو اور جو شخص سواری کرتا ہے اور دودھ پیتا ہے اس جانور کا خرچ اس کے ذمے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 5935]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2511، 2512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 722، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5935، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2360، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3526، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1254، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2440، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11325، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2928، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7246» «رقم طبعة با وزير 5905»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1409).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين