🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

188. باب الإِشَارَةِ فِي التَّشَهُّدِ
باب: تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ، قَالَ: رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي، وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَ:" كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَ".
علی بن عبدالرحمٰن معاوی کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے اس سے منع کیا اور کہا: تم نماز میں اسی طرح کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، میں نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی تمام انگلیاں سمیٹ لیتے اور شہادت کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہوتی ہے، اشارہ کرتے ۱؎ اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 987]
جناب علی بن عبدالرحمن المعاوی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا کہ میں نماز کے دوران کنکریوں سے کھیل رہا تھا، جب وہ فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھے اس سے منع فرمایا اور کہا: ایسے کیا کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھ لیتے اور ساری انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی (شہادت والی) انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 987]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 21 (580)، سنن النسائی/التطبیق 98 (1161)، والسھو 32 (1267) 33 (1268)، (تحفة الأشراف: 7351)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 11(48)، سنن الدارمی/الصلاة 83 (1378) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے سلام پھیرنے تک برابر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، اشارہ کرنے کے بعد انگلی کے گرا لینے یا «لا إله» پر اٹھانے اور «إلا الله» پر گرا لینے کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (580)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاةِ جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى تَحْتَ فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَسَاقِهِ، وَفَرَشَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ". وَأَرَانَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں داہنی ران اور پنڈلی کے نیچے کرتے اور داہنا پاؤں بچھا دیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے، عبدالواحد نے ہمیں شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے دکھایا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 988]
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھا کرتے تو اپنے بائیں پاؤں کو اپنی دائیں ران اور پنڈلی کے نیچے کر لیتے اور اپنے دائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔ اور عبدالواحد نے ہم کو دکھایا اور انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 21 (579)، سنن النسائی/التطبیق 99 (1162)، والسھو 35 (1271)، 39 (1276)، (تحفة الأشراف: 5263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (579)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ذَكَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا". قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ:أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُو كَذَلِكَ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارے کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے عامر نے اپنے والد کے واسطہ سے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح تشہد پڑھتے دیکھا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 989]
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اسے حرکت نہ دیتے تھے۔ ابن جریج نے کہا کہ عمرو بن دینار نے مزید کہا کہ مجھے عامر نے اپنے والد سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اشارہ کیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/السہو 35 (1271)، (تحفة الأشراف: 5264)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (شاذ)» ‏‏‏‏ ( «ولا يحركها» کے جملہ کے ساتھ شاذ ہے) «‏‏‏‏قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَدْعُو كَذَلِكَ، وَيَتَحَامَلُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُسْرَى (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے کا جملہ شاذ ہے جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس کے برخلاف صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی کو اٹھانے کے بعد اسے حرکت دے دے کر دعا کرتے اور فرماتے تھے کہ یہ شہادت کی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بقوله ولا يحركها
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1271)
ابن عجلان عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 990
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:" لَا يُجَاوِزُ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ". وَحَدِيثُ حَجَّاجٍ أَتَمُّ.
اس طریق سے بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ کی نظر اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی اور حجاج کی حدیث (یعنی پچھلی حدیث) زیادہ مکمل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 990]
جناب عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے یہ حدیث بیان کی اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے سے آگے نہ بڑھتی تھی۔ اور حجاج کی حدیث اس سے زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5264) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (4/3)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 991
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَاضِعًا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، رَافِعًا إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ قَدْ حَنَاهَا شَيْئًا".
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو اٹھائے ہوئے دیکھا، آپ نے اسے تھوڑا سا جھکا رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 991]
جناب مالک بن نمیر خزاعی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، شہادت کی انگلی اٹھائے ہوئے تھے اور اسے کچھ ٹیڑھا سا بھی کیے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/السھو 36 (1272)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 27 (911)، (تحفة الأشراف: 11710)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/471) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی مالک لین الحدیث ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (1272 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (715، 716 وسندھما حسن) مالك بن نمير وثقه ابن حبان وابن خزيمة بتصحيح حديثه فھو حسن الحديث

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں