صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
30. باب ما جاء في الفتن - ذكر الإخبار بأن على المرء عند وقوع الفتن كسر سيفه ثم الاعتزال عنها-
فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر خبر کہ فتنوں کے وقت انسان کو اپنی تلوار توڑ کر اس سے اعتزال کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 5965
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ، وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي"، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ، فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى صَخْرَةٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا، بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا، چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔“ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (اس طرح کی صورت حال میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے، جس شخص کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں کے پاس چلا جائے، جس شخص کی زمین ہو وہ اپنی زمین کے ساتھ مصروف ہو جائے، جس شخص کے پاس ان میں سے کچھ نہ ہو وہ اپنی تلوار کی طرف جائے اور پھر اس کی دھار کو پتھر پر مار کر (اپنی تلوار کو بے کار کر دے)، پھر جہاں تک اس سے ہو سکے وہ نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 5965]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2887، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5965، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8455، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4256، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16898، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20740» «رقم طبعة با وزير 5934»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (8/ 169).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم