🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب الجنايات - ذكر الإخبار عن استدارة الزمان في ذلك الوقت-
جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر خبر کہ اس وقت زمانہ گھوم کر واپس آیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5975
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، وَالسُّنَّةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ، حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ، فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، فَلا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے زمانہ گردش میں ہے، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، جس میں چار مہینے حرمت والے ہیں، ان میں سے تین مہینے آگے پیچھے (مسلسل) ہوتے ہیں: ذی القعدہ، ذوالحجہ اور محرم، جبکہ رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، تو ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے نیا نام تجویز کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری جانیں اور تمہارے مال (یہاں محمد نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: تمہاری عزتیں) ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے۔ عنقریب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے، تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا۔ تو تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو، خبردار! موجود شخص غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دے، کیونکہ جس (دوسرے شخص کو بات) پہنچائی جائے گی وہ (بعض اوقات براہِ راست) سننے والے سے زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھے گا۔ خبردار! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 5975]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 67، 105، 1741، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1679، وابن الجارود فى "المنتقى"، 899، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2952، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3848، 5973، 5974، 5975، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4141، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1947، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1520، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1957، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 233، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20713» «رقم طبعة با وزير 5944»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں