صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. باب الغرة - ذكر الخبر المصرح بأن المتوفاة من المرأتين اللتين ذكرناهما كانت المضروبة دون الضاربة-
«غُرَّہ» (یعنی حمل ضائع ہونے پر دیت) کا بیان - ذکر خبر جو واضح کرتی ہے کہ ہمارے ذکر کردہ دونوں عورتوں میں سے مرنے والی مضروبہ تھی نہ کہ ضاربہ
حدیث نمبر: 6020
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ، أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا، وَيَرِثُهَا وَلَدُهَا وَمَنْ تَبِعَهُمْ" فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ: أَنَدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لا أَكَلَ، وَلا شَرِبَ، وَلا نَطَقَ، وَلا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ هَذَا يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذَا مِنْ أَحْدَاثِ الْكُهَّانِ، مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو خواتین آپس میں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو (پتھر) مار کر اسے اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا۔ وہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کے پیٹ میں موجود بچے کی دیت ایک غلام یا کنیز ہو گی۔“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت کی ادائیگی اس (قاتلہ) کے خاندان (عاقلہ) پر لازم قرار دی، اور ارشاد فرمایا کہ اس مقتولہ کی اولاد اور اس کے دیگر ورثا اس کے وارث بنیں گے۔ اس پر حمل بن نابغہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کی دیت دوں؟ میں ایسے شخص کی دیت کیسے دے سکتا ہوں جس نے نہ کچھ کھایا، نہ کچھ پیا، نہ وہ بولا اور نہ ہی وہ (پیدا ہوتے وقت) پکار کر رویا؟ اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو کاہنوں کی طرح کی بات چیت کر رہا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مسجع الفاظ کی وجہ سے یہ بات ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الدِّيَاتِ/حدیث: 6020]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5758، 5759، 5760، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1681، وابن الجارود فى "المنتقى"، 838، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6017، 6018، 6020، 6022، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4832، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4576، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1410، 2111، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2639، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16231، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7337» «رقم طبعة با وزير 5988»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - مضى (5985)، وهذا أتم. تنبيه!! رقم (5985) = (6017) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم