🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن استقرار الشمس كل ليلة تحت العرش واستئذانها في الطلوع-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ سورج ہر رات عرش کے نیچے ٹھہرتا ہے اور طلوع ہونے کی اجازت مانگتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6154
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ؟"، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَذْهَبُ حَتَّى تَنْتَهِيَ تَحْتَ الْعَرْشِ عِنْدَ رَبِّهَا، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ، فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَتُوشِكُ أَنْ تَسْتَأْذِنَ، فَلا يُؤْذَنُ لَهَا، وَتَسْتَشْفِعَ وَتَطْلُبَ، فَإِِذَا كَانَ ذَلِكَ قِيلَ لَهَا: اطْلَعِي مِنْ مَكَانِكِ، فَهُوَ قَوْلُهُ: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ سورة يس آية 38" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سورج غروب ہونے کے قریب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ عرش کے نیچے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے، پھر یہ اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت ملتی ہے، عنقریب ایسا وقت آئے گا یہ اجازت مانگے گا تو اسے اجازت نہیں ملے گی، وہ اس سے سفارش طلب کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے، جب اس طرح کی صورت حال ہوتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے: تم اپنی جگہ سے طلوع ہو جاؤ۔“ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾ [سورة يس: 38] ”سورج اپنے مخصوص راستے پر چلتا ہے، یہ غالب اور علم رکھنے والی ذات کا مقرر کردہ (نظام) ہے۔“ سے یہی مراد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6154]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3199، 4802، 4803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 159، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6152، 6153، 6154، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2979، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4002، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2186، 3227، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21695» «رقم طبعة با وزير 6121»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں