🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن الأنبياء كان لهم حواريون يهدون بهديهم بعدهم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ انبیاء کے حواری ہوتے تھے جو ان کے بعد ان کی ہدایت پر چلتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6193
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الأَعْيُنُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِِلا كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يُهْدُونَ بِهَدْيِهِ، وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ أَقْوَامٌ يَقُولُونَ مَا لا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُنْكِرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ، لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الإِِيمَانِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر نبی کے کچھ حواری ہوتے ہیں جو اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہیں اور اس کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد کچھ لوگ آ جاتے ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر وہ (خود) عمل نہیں کرتے اور ایسے کام کرتے ہیں، جنہیں وہ خود گناہ قرار دیتے ہیں، تو جو شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، جو اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، جو شخص اپنے دل کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا اور پھر اس کے بعد رائی کے دانے کے وزن جتنا بھی ایمان نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6193]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 50، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 177، 6193، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20235، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4449، 4465، 4488، والبزار فى (مسنده) برقم: 1896، والطبراني فى(الكبير) برقم: 9784، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9107» «رقم طبعة با وزير 6160»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (1/ 50 - 51). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں