صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
274. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر اتخاذ الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم خليلا كاتخاذه إبراهيم صلوات الله عليه خليلا-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلیل بنایا جیسے ابراہیم صلوات اللہ علیہ کو خلیل بنایا
حدیث نمبر: 6425
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَمِيلٍ النَّجْرَانِيِّ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُتَوَفَّى بِخَمْسِ لَيَالٍ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ،" إِِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيكُمْ إِِخْوَةٌ وَأَصْدِقَاءُ، وَإِِنِّي أَبْرَأُ إِِلَى اللَّهِ أَنْ أَتَّخِذَ مِنْكُمْ خَلِيلا، وَلَوْ أَنِّي اتَّخَذْتُ مِنْ أُمَّتِي خَلِيلا لاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلا، إِِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلا كَمَا اتَّخَذَ إِِبْرَاهِيمَ خَلِيلا، وَإِِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، فَلا تَتَّخِذُوا قُبُورَهُمْ مَسَاجِدَ، فَإِِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ" .
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پانچ دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! پہلے تمہارے درمیان بھائی چارہ اور دوستی تھی اور میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس چیز سے بری الذمہ ہوتا ہوں کہ میں نے تم میں سے کسی کو خلیل بنایا ہو، اگر میں نے اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا، بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے (اپنا) خلیل بنایا ہے جس طرح اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو (اپنا) خلیل بنایا ہے، تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجد بنا لیتے تھے تو تم لوگ ان کی قبروں کو مسجد نہ بنانا، میں تم لوگوں کو اس سے منع کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6425]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 532، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6425، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4040، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11058، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7628، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1686، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4357» «رقم طبعة با وزير 6391»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (2/ 67 - 68) - «تحذير الساجد» (ص 14).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح