صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
362. باب المعجزات - ذكر ما جعل الله جل وعلا دعوة المصطفى صلى الله عليه وسلم على من لم يكن لها بأهل وقربة إلى الله جل وعلا-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو اس کے لیے قربت بنایا جو اس کا اہل نہ تھا اور اللہ جل وعلا سے قربت حاصل کی
حدیث نمبر: 6514
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ، فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَنْتِ هِيَ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ، لا كَبِرَ سِنُّكِ"، فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟، قَالَتِ الْجَارِيَةُ: دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا يَكْبَرَ سِنِّي، فَالآنَ لا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا، أَوْ قَالَتْ: قَرْنَيْ، فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا:" يَا أُمُّ سُلَيْمٍ، مَالَكِ؟"، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي؟، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟"، قَالَتْ: زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ عَلَيْهَا أَنْ لا يَكْبَرَ سِنُّهَا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، أَمَا تَعْلَمِينَ شَرْطِي عَلَى رَبِّي؟ إِِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: إِِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بأهلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک یتیم لڑکی تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”کیا یہ تم ہو؟ تمہاری عمر زیادہ ہو جائے گی لیکن تمہارے دانتوں کی عمر زیادہ نہیں ہو گی۔“ تو وہ یتیم لڑکی روتی ہوئی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: اے لڑکی! تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس لڑکی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا کی ہے کہ میرے دانت بڑے نہ ہوں، اب تو میرے دانت کبھی بڑے نہیں ہوں گے، (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) میرے بال (بڑے نہیں ہوں گے)۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا تیزی سے اپنی چادر لپیٹ کر نکلیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے ام سلیم! کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ام سلیم! وہ کیسے؟“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اس لڑکی نے یہ بات بیان کی ہے کہ آپ نے اس کے خلاف یہ دعا کی ہے کہ اس کے دانت بڑے نہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! کیا تم یہ بات نہیں جانتی کہ میں نے پروردگار کے ساتھ کیا طے کیا ہے؟ میں نے اپنے پروردگار سے یہ عرض کی ہے: اے میرے پروردگار! میں ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح راضی ہوتا ہوں جیسے دوسرے لوگ راضی ہوتے ہیں اور اسی طرح غصے میں آ جاتا ہوں جیسے دوسرے لوگ غصے میں آتے ہیں، تو اپنی امت کے جس بھی شخص کے خلاف میں کوئی ایسی دعا کروں جس کا وہ اہل نہ ہو تو اے پروردگار! اسے اس شخص کے حق میں طہارت کے حصول، پاکیزگی کے حصول اور اپنی قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیری بارگاہ میں قرب حاصل کرے۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم دل تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6514]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2603، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5791، 6514، والبزار فى (مسنده) برقم: 6422، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 6005» «رقم طبعة با وزير 6480»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (83): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم