صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
374. باب المعجزات - ذكر ما حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وإرسال الشهب عليهم عند إظهار المصطفى صلى الله عليه وسلم الإسلام-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام کے ظہور پر شیاطین اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل کیا گیا اور ان پر شہاب ثاقب بھیجے گئے
حدیث نمبر: 6526
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ، وَمَا رَآهُمْ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالُوا: مَا ذَاكَ إِِلا شَيْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَمَرَّ النَّفْرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ، وَهُمْ عَامِدُونَ إِِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ، قَالُوا: هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَرَجَعُوا إِِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا سورة الجن آية 2 - 2، فَأَوْحَى اللَّهُ إِِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ سورة الجن آية 1" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سامنے کوئی تلاوت نہیں کی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب عکاظ کے بازار کی طرف تشریف لے گئے۔ یہ وہ وقت تھا، جب شیاطین اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ آ چکی تھی اور ان پر شہابِ ثاقب بھیجے جاتے تھے، تو شیاطین اپنی قوم کی طرف واپس آئے اور ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ پڑ چکی ہے اور اب ہمارے اوپر شہابِ ثاقب بھیجے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا: یہ کسی ایسی وجہ سے ہوا ہوگا، جو نئی رونما ہوئی ہے، تم لوگ زمین کے مشرقی حصوں اور مغربی حصوں کا جائزہ لو اور اس بات کا جائزہ لو کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے؟ تو وہ لوگ زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا گزر تہامہ کی طرف سے ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک کھجور کے باغ میں موجود تھے۔ یہ لوگ عکاظ کے بازار کی طرف جاتے ہوئے راستے میں (کھجور کے اس باغ میں تھے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، جب ان جنات نے قرآن کی تلاوت سنی تو انہوں نے کہا: یہ وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے، تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور انہوں نے یہ کہا: ﴿إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ﴿1﴾ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا ﴿2﴾ ﴾ ”ہم نے قرآن کو سنا ہے وہ بڑی حیران کن چیز ہے، وہ ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم کسی کو اپنے پروردگار کا شریک قرار نہیں دیں گے۔“ [سورة الجن: 1-2] تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف یہ بات وحی کی: ﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ ﴿1﴾ ﴾ ”تم یہ فرما دو کہ جب جنات کے ایک گروہ نے اسے غور سے سنا۔“ [سورة الجن: 1] [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6526]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 773، 4921، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6526، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3878، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11560، 11561، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3323، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3119، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2307» «رقم طبعة با وزير 6492»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4921)، م (2/ 35 - 36). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم