🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

385. باب المعجزات - ذكر خبر بأن الماء المغسول به أعضاء المصطفى صلى الله عليه وسلم كثر بعد فراغه من وضوئه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء کو دھونے والا پانی وضو کے بعد بڑھ گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6537
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: " إِِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ، فَإِِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا، فَلا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ"، قَالَ: فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَ إِِلَيْهَا رَجُلانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟"، فَقَالا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ قَلِيلا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَعَادَهَا فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ، فَاسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِِنْ طَالَتْ بِكَ الْحَيَاةُ أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز جبکہ مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کرتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مؤخر کیا پھر آپ (اپنی قیام گاہ سے) باہر تشریف لائے۔ آپ نے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کی، پھر آپ (قیام گاہ کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ باہر تشریف لے آئے) پھر آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو کل تم لوگ تبوک کے چشمے تک پہنچ جاؤ گے، تم اس کے پاس اس وقت پہنچو گے جب دن چڑھ چکا ہو گا، جو شخص وہاں آئے وہ اس کے پانی میں سے اس وقت تک کچھ حاصل نہ کرے جب تک میں نہیں آ جاتا۔ راوی کہتے ہیں: جب ہم وہاں پہنچے تو دو آدمی وہاں پہلے پہنچ چکے تھے۔ وہ چشمہ تسمے کی طرح (باریک) تھا جس میں سے تھوڑا سا پانی نکل رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: تم نے اس کے پانی کو استعمال کیا ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ناراضی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ ان دونوں سے کہا۔ پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اس چشمے میں سے تھوڑا سا پانی حاصل کیا، یہاں تک کہ وہ پانی کسی چیز میں اکٹھا ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے۔ پھر آپ نے وہ پانی دوبارہ اس چشمے میں ڈال دیا تو اس سے بہت سا پانی جاری ہو گیا اور لوگوں نے وہ پانی پیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! عنقریب تمہاری زندگی لمبی ہو گی اور تم دیکھو گے (کہ اس پانی کی وجہ سے) یہاں بہت سے باغات ہوں گے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6537]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 706، ومالك فى (الموطأ) برقم: 478، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 966، 968، 1704، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1458، 1591، 1593، 1595، 6537، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 586، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1576، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1206، 1208، 1220، والترمذي فى (جامعه) برقم: 553، 554، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1070، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1462، 1463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22419» «رقم طبعة با وزير 6503»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1089)، «الصحيحة» (1210): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں