سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
247. باب صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1134
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَقَالَ:" مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟" قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْرِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے (تو دیکھا کہ) ان کے لیے (سال میں) دو دن ہیں جن میں وہ کھیلتے کودتے ہیں تو آپ نے پوچھا: ”یہ دو دن کیسے ہیں؟“، تو ان لوگوں نے کہا: جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیلتے کودتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں: ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1134]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور ان لوگوں کے ہاں دو دن تھے کہ وہ ان میں کھیل کود کیا کرتے تھے آپ نے پوچھا: ”یہ یہ دو دن کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ہم دور جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالی نے تمہیں ان کے بدلے ان سے اچھے دن دیے ہیں۔ اضحی (قربانی) کا دن اور فطر کا دن۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 619)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین (1557)، مسند احمد (3/103، 178، 235، 250) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1439)
أخرجه النسائي (1557 وسنده صحيح) سلسلة حميد الطويل عن أنس صحيح وحميد صرح بالسماع عند أحمد (3/250)
مشكوة المصابيح (1439)
أخرجه النسائي (1557 وسنده صحيح) سلسلة حميد الطويل عن أنس صحيح وحميد صرح بالسماع عند أحمد (3/250)