صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
439. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة العلم أن المصطفى صلى الله عليه وسلم في الخرجة التي وصفناها للعهد إلى الناس صلى على شهداء أحد قبل الخطبة التي ذكرناها-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ وصیت کے لیے نکلنے میں احد کے شہداء پر ہمارے ذکر کردہ خطبہ سے پہلے دعا کی
حدیث نمبر: 6595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَاثْنَيْ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَإِِنِّي عَلَيْكُمْ لَشَهِيدٌ، وَإِِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عليكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ وَالسَّمَاءِ، وَأَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا" ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا، وَكَانَتْ آخِرُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداءِ احد کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر آپ واپس تشریف لائے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہارے آگے تمہارا پیشرو ہوں اور میں تم لوگوں کا گواہ ہوں گا۔ اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے، لیکن گزشتہ رات مجھے زمین اور آسمان کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئیں۔ مجھے تمہارے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم ان میں دلچسپی لو گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے، پھر آپ اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو قبض کر لیا۔ یہ وہ آخری خطبہ تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے (آپ کی روح مبارکہ کو) قبض کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6595]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1344، 3596، 4042، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3198، 3199، 3224، 6595، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1953، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3223، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6910، 6911، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1849، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17617» «رقم طبعة با وزير 6561»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3188). تنبيه!! رقم (3188) = (3198) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null