صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
531. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن كسرى إذا هلك يهلك ملكه به إلى قيام الساعة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے ساتھ اس کی سلطنت بھی قیامت تک ہلاک ہو جائے گی
حدیث نمبر: 6689
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلا قَيْصَرُ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلا كِسْرَى بَعْدَهُ"، أَرَادَ بِهِ بِأَرْضِهِ وَهِيَ الْعِرَاقُ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلا قَيْصَرُ بَعْدَهُ"، يُرِيدُ بِهِ بِأَرْضِهِ وَهِيَ الشَّامُ، لا أَنَّهُ لا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَلا قَيْصَرُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا، جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کرو گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا۔“ اس کے ذریعے آپ کی مراد اس کی سرزمین ہے، وہ عراق کی سرزمین ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا۔“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اس کی سرزمین میں ایسا نہیں ہو گا اور وہ سرزمینِ شام ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان کے بعد کوئی کسریٰ یا کوئی قیصر نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6689]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3027، 3029، 3120، 3618، 6630، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1740، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6689، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2216، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18521، 18674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7305» «رقم طبعة با وزير 6654»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح