صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
561. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر ثان يصرح بوصف رفع العلم الذي ذكرناه قبل-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر دوسری خبر جو ہمارے پہلے بیان کردہ علم کے اٹھنے کی وصف کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 6720
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْفَرْغَانِيُّ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِِلَى السَّمَاءِ يَوْمًا، فَقَالَ: " هَذَا أَوَانٌ يُرْفَعُ الْعِلْمُ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: لَبِيدُ بْنُ زِيَادٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُرْفَعُ الْعِلْمُ وَقَدْ أُثْبِتَ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ؟ فَقَالْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنْ كُنْتُ لأَحْسَبُكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ،" ثُمَّ ذَكَرَ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ" ، قَالَ: فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ ، فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، أَلا أَدُلُّكَ بِأَوَّلِ ذَلِكَ؟ يُرْفَعُ الْخُشُوعُ، حَتَّى لا تَرَى خَاشِعًا.
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ وہ وقت ہے جس میں علم کو اٹھا لیا جائے گا۔“ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام لبید بن زیاد تھا، انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! کیا علم کو اٹھا لیا جائے گا، حالانکہ یہ ثابت ہو چکا ہے اور ذہنوں نے اسے محفوظ کر لیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو تمہارے بارے میں یہ سمجھتا تھا کہ تم اہل مدینہ کے سب سے سمجھدار شخص ہو“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس اللہ کی کتاب موجود تھی (لیکن اس کے باوجود وہ گمراہ ہو گئے)۔ راوی کہتے ہیں: پھر میری ملاقات سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث سنائی تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے سچ بیان کیا ہے، کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف کروں کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ سب سے پہلے خشوع و خضوع کو اٹھایا جائے گا اور پھر تمہیں ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا، جو خشوع و خضوع والا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6720]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4572، 6720، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 336، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5878، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24623» «رقم طبعة با وزير 6685»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (7/ 4553). تنبيه!! رقم (4553) = (4572) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح